ایک سوال، ایک دھرنا، اور بدلتا ہوا کراچی – اشرف خان

الطاف حسین کو برطانوی پولیس نے 3 جون 2014 کو منی لانڈرنگ کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا تھا۔ اُس وقت کا کراچی، جیسا کہ اکثر ہوتا تھا، گلیاں سنسان تھیں، ٹریفک تقریباً مفلوج، اور شہر میں ایک عجیب سی خاموشی چھائی ہوئی تھی—گویا سب لوگ اس خبر کے اثر سے تھم گئے ہوں۔ ہر گوشہ، ہر چوراہا، زندگی اور خوف کے درمیان توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔
میں نے اپنے ایڈیٹر کے سامنے ایک اسٹوری کا خیال رکھا: اگر الطاف حسین کی گرفتاری طویل ہو جائے، یا وہ سزا یافتہ قرار پائیں، تو ان کے بعد ایم کیو ایم کی قیادت کون سنبھالے گا؟ :
2013 کے آپریشن کے بعد جون 2014 تک کراچی بدلنا شروع ہو چکا تھا، اگرچہ ہم میں سے اکثر کو اس تبدیلی کی حتمیت کا اندازہ نہیں تھا۔ ایم کیو ایم اب بھی شہر کو مفلوج کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی—جیسا کہ لندن میں الطاف حسین کی گرفتاری کے بعد نمائش چورنگی کے قریب ہونے والے دھرنے میں نظر آیا—لیکن وہ یقینی گرفت، جو کبھی اس کی پہچان تھی، اب ڈھیلی پڑ رہی تھی۔ نعرے بلند تھے، مگر فضا میں کچھ بدلا بدلا سا محسوس ہو رہا تھا۔ خوف کم ہو رہا تھا، وفاداری میں دراڑیں پڑ رہی تھیں۔ ایک صحافی اور عینی شاہد کی حیثیت سے مجھے محسوس ہوا کہ یہ اب وہ کراچی نہیں رہا جہاںMQM بلا شرکتِ غیرے اقتدار تھی، بلکہ یہ ایک ایسے موڑ پر کھڑا شہر تھا جہاں سیاسی شکست و ریخت کے آثار نمایاں ہونے لگے تھے۔
اس کے باوجود، ایسے سوال اٹھانا اب بھی خطرے سے خالی نہ تھا۔ 2013 کے آپریشن کے بعد اگرچہ ایم کیو ایم کا عسکری ونگ یا تو روپوش تھا یا فرار، لیکن الطاف حسین کی جماعت پر گرفت اور کارکنوں میں مقبولیت بدستور مضبوط تھی۔ یہ سوال مقامی میڈیا کے لیے تو سرخ لکیر سے بھی آگے تھا، اور غیر ملکی میڈیا کے لیے رپورٹنگ کرنے والے ایک صحافی کے طور پر میرے لیے بھی یہ برف پر چلنے کے مترادف تھا.

جون کی پانچ تاریخ کی ایک تپتی ہوئی دوپہر کو میں نمائش چورنگی پر لگے دھرنے میں پہنچا، جو ایک بڑے سے خیمے کے نیچے جاری تھا۔ سیکڑوں کارکن—مرد، عورتیں، ہر عمر کے لوگ—سڑک پر بچھے دریوں پر بیٹھے تھے۔ قیادت اگلی قطاروں میں موجود تھی۔ میری نظر امین الحق پر پڑی، جن سے میری پیشہ ورانہ واقفیت اور تعلق رہا تھا۔ میں ان کے پاس گیا اور اپنا سوال ان کے سامنے رکھا۔
جیسا کہ متوقع تھا، یہ سوال جتنا مشکل تھا، اس کا جواب دینا اس سے بھی زیادہ دشوار۔ یہ وہ دن تھے جب الطاف حسین کی گرفت صرف قیادت پر نہیں بلکہ جماعت کے پورے ڈھانچے پر قائم تھی۔ امین الحق نے صاف جواب دینے کے بجائے بات کو گھمانا شروع کر دیا۔ میں یہ سب پہلے بھی دیکھ چکا تھا۔ ایسے سوال پوچھنا سانپ کے بل میں ہاتھ ڈالنے جیسا تھا۔ پھر بھی میں مختلف انداز میں، بالواسطہ اور محتاط طریقوں سے بات کو آگے بڑھاتا رہا۔
اسی دوران فاروق ستار موقع پر پہنچے۔ وہ کارکنوں اور رہنماؤں سے ہاتھ ملاتے ہوئے امین الحق کی جانب بڑھے۔ جیسے ہی وہ قریب پہنچنے والے تھے، امین الحق نے فوراً بات ان کی طرف موڑ دی۔
“اشرف بھائی پوچھ رہے ہیں کہ الطاف بھائی کے بعد ایم کیو ایم کی کمان کون سنبھالے گا،”
انہوں نے فاروق ستار کو پیشگی خبردار کرتے ہوئے کہا تاکہ وہ اچانک نہ پکڑے جائیں۔
فاروق ستار اپنے مخصوص انداز میں رکے۔
“اوہ، اچھا،” انہوں نے کہا، اور پھر نہایت سوچ سمجھ کر جواب دیا۔
“یہ تو الطاف بھائی خود بھی کئی بار کہہ چکے ہیں کہ رابطہ کمیٹی ہی امور چلائے گی۔”
یہ ایسا جواب تھا جو بیک وقت سب کچھ بھی تھا اور کچھ بھی نہیں۔ میرا سوال کسی فرد کے بارے میں تھا—ایسے رہنما کے بارے میں جو الطاف حسین کا نعم البدل ہو سکتا۔ شاید ان کے ذہنوں میں جوابات موجود تھے، مگر ان دنوں انہیں زبان پر لانے کی ہمت کوئی نہیں کر سکتا تھا۔ کم از کم 2016 سے پہلے تو ہرگز نہیں۔ میں آگے بڑھ گیا۔
کیمرے سے ہٹ کر، اور مکمل طور پر آف دی ریکارڈ، چند رہنماؤں نے دھیرے سے الطاف حسین کی بگڑتی ہوئی صحت کا ذکر کیا۔ یہ بات سرگوشیوں میں کی جاتی تھی، کبھی کھلے عام نہیں—جیسے انسانی کمزوری کا اعتراف بھی بے وفائی کے زمرے میں آتا ہو۔
میں کارکنوں کے ہجوم میں داخل ہوا تو ایک نوجوان خاتون الطاف حسین کی رہائی کے نعرے لگا رہی تھی۔ میں نے اس سے بات کرنے کی اجازت مانگی—صحافت کا ایک بنیادی اخلاقی اصول جسے مقامی میڈیا اکثر نظرانداز کر دیتا ہے۔ اس نے ساتھ بیٹھے ایک نوجوان کی طرف اشارہ کیا۔
“ان سے بات کریں،” اس نے کہا۔
میں نے جیسے ہی اس کی طرف رخ کیا، میری نظر اس کے بازوؤں پر پڑی۔ سفید آدھی آستین کی قمیص کے نیچے اس کے دونوں بازو درجنوں تازہ زخموں سے بھرے ہوئے تھے۔
“یہ کیا ہوا ہے؟” میں نے پوچھا۔
بلیڈ سے کاٹا ہے،” اس نے پرسکون لہجے میں کہا اور دونوں بازو اٹھا دیے۔“
“کس نے کیا؟” میں نے دوبارہ سوال کیا۔
“میں نے خود کیا ہے،” اس نے جواب دیا۔ “اپنے قائد سے یکجہتی دکھانے کے لیے اس کے علاوہ اور کیا کر سکتا تھا؟”
اس لمحے تصویر بالکل صاف ہو گئی۔ قیادت ڈانواں ڈول تھی—محتاط، کمزور، اور ان باتوں کے بوجھ تلے دبی ہوئی جو کہی نہیں جا سکتی تھیں۔ لیکن عام کارکن بدستور مضبوط اور پُرعزم تھے—ایسی عقیدت میں بندھے ہوئے جس پر منطق کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔ نعرے گونج رہے تھے، خیمہ بھرا ہوا تھا، مگر اندر ہی اندر زمین سرکنا شروع ہو چکی تھی۔
سنڌسماءَچار